عابد حسین قیصرانی
عبدالروٴف ظفر
Mphil
Allama Iqbal Open University
اسلام آباد
2003
Urdu
فقہی مسائل , منشیات
2023-02-16 17:15:59
2023-02-19 12:20:59
1676731626524
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
MA | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
PhD | University of Karachi, کراچی | |||
PhD | The University of Lahore, لاہور | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
PhD | University of Karachi, کراچی | |||
Mphil | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
MA | Gomal University, ڈیرہ اسماعیل خان | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Mphil | The University of Lahore, لاہور | |||
MA | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
- | Government College University Lahore, لاہور | |||
Mphil | University of Gujrat, گجرات | |||
PhD | HITEC University Taxila Cantt, ٹیکسلا | |||
PhD | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
MS | HITEC University Taxila Cantt, ٹیکسلا | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
جیزہ
مسافر کی اگلی منزل جیزہ تھی جو زیریں قاہرہ سے کوئی اٹھارہ بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے یہاں لے جانے کا انتظام دکتورہ بسنت کے ذمے تھا ۔ان کے ہمراہ ان کے دو بچے اور خوش پوش و خوش شکل شوہر احمد بھی تھا ۔احمد سے معانقے کے بعد ہم ان کی گاڑی میں بیٹھے اور جیزہ کی طرف روانہ ہوئے ۔دریائے نیل ایسے ہم رکاب تھا جیسے کسی نے اہرام تک سیاحوں کو پہچانے کی ذمہ داری لگائی ہو ۔آپ قاہرہ کے جس بھی حصے میں ہوں نیل اپنی موجودگی اور ہم رکابی کا احساس دلاتا ہے ۔مصری جیزہ کو گیزہ بولتے ہیں ۔یہاں دنیا کے سات عجوبو ں میں سے ایک عجوبہ آباد ہے جو اصل میں فراعین مدفن ہیں ۔قاہرہ سے جیزہ تک سڑک کشادہ ہے مگر پشاور کے قصہ خوانی بازار اور لاہور کی پرانی انار کلی کی طرح سڑک ریڑھی بانوں ،چائے اور شیشہ کے کھوکھوں ،غیر قانونی بس اڈوں اور سڑک پر چونچ نکالی ویگنوں ،بساط بچھائے سنیا سیوں اور میوہ و سبزی فروشوں نے تل دھرنے کو جگہ نہیں چھوڑی تھی ۔یہ تو دکتورہ بسنت کے شوہر احمد کا کمال تھا کہ اس اژدھام میں بھی پر سکون اعصاب کے ساتھ گاڑی کو اہرام تک بہ حفاظت پہنچایا ۔احمد صاحب نے سیاحوں کی بھیڑ میں جا کر ہمارے لیے ٹکٹ خریدے ۔ہم پیدل ایک ڈھلوان پر روانہ ہوئے ہمارے سامنے تین مخروطی اہرام اپنے مکمل قد کاٹھ کے ساتھ ایستادہ تھے۔دکتورہ بسنت نے کہا یہ مصر کے عظیم اہرام ہیں ۔یہ خوفو کا اہرام ہے دوسرا خافراع کا اور تیسرا میکادر کا ہے ۔میں نے پوچھا اور ابولہول کہاں ہے انھوں نے ہاتھ کے اشارے سے کہا وہ بیٹھا ہے مگر ہم اس کی پشت پر ہیں اس کا چہرہ دیکھنے نیچے جا نا...