ہاشم بلال
عبدالغفار
MA
The Islamia University of Bahawalpur
بہاولپور
2011
Urdu
تعارف تفاسیر , التفسیر المنیر
2023-02-16 17:15:59
2023-02-16 22:08:49
1676731670153
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
اطہر صدیقی
اطہرؔ صدیقی(۱۹۳۵ئ۔پ) کا اصل نام محمدیسیٰن صدیقی اور اطہرؔ تخلص کرتے تھے۔ آپ چوہان حال برہان پور تحصیل پسرور میں پیدا ہوئے۔ آپ معروف شاعر پروفیسر حفیظ صدیقی کے بھائی تھے۔ حفیظ صدیقی کی راہنمائی میں اطہر نے زمانہ طالب علمی میں شاعری کا آغاز کیا تو ان کا کلام ملک کے معروف ادبی رسائل و جرائد میں شائع ہونے لگا۔(۸۸۴)
اطہرؔ کا پہلا شعری مجموعہ’’ کاکل غم‘‘ غزلوں اور نظموں پر مشتمل ہے جو۱۹۸۷ء میں شائع ہوا۔دوسرامجموعہ کلام’’ذوق سفر‘‘ کے نام سے ۱۹۸۹ء میں صدیقی پبلی کیشنز لاہور سے طبع ہوا۔ یہ مجموعہ غزلیات پر مشتمل ہے۔ تیسرا شعری مجموعہ’’آبرئوے غم‘‘۱۹۹۰ء میں صدیقی پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہوا۔ یہ مجموعہ بھی غزلیات پر مشتمل ہے۔ چوتھا شعری مجموعہ ’’گردِ مسافت‘‘غزلیات اور نظموں پر مشتمل ہے۔
اطہر ؔصدیقی کی شاعری کا بڑا موضوع عظمت انسان ہے ۔وہ اپنی شاعری میں حضور ؐ کی ذات اقدس کے شیدائی نظر آتے ہیں۔ ان کے نزدیک حضرت محمدؐ کی ہستی عظمت انسان کی علامت ہے۔ اور وہی مثالیِانسان کا نمونہ ہیں۔انھوںنے نعت میں ہی نہیں بلکہ اپنی نظم اور غزل میں بھی عظمتِ انسان کی حقیقت کا اظہار کیا ہے۔
اطہرؔ کی شاعری عزم و ہمت ،جوش ،جواں جذبوں ،جستجو اور بلند حوصلوں سے بھر پور شاعری ہے ۔وہ اپنی شاعری میں کہیں بھی پست ہمت نظر نہیں آتے۔ان کے ہاں جوش اور جذبات کی شدت قاری کے حوصلے کو بلند کرنے کا سامان فراہم کرتی ہے۔ وہ عشق و جنون کے شاعر ہیں ۔یہ عشق و جنون انھیں عظیم کارنامے سر انجام دینے کے لیے ہر وقت تازہ دم رکھتا ہے۔ کچھ اشعار ملاحظہ :
ذرے ذرے سے پوچھ دیکھا ہے
دشت در دشت کون رہتا ہے
کون رہتا ہے لا مکاں میں اب
کس کی رعنائیوں...