نذیر حسین
علاوٴ الدین صدیقی
MA
University of the Punjab
لاہور
1955
Urdu
مجموعہ دیگر کتبِ حدیث , متفرق
2023-02-16 17:15:59
2023-02-16 23:30:16
1676731814024
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
PhD | University of Sindh, Jamshoro, Pakistan | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
PhD | University of Karachi, کراچی | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
PhD | Aligarh Muslim University, علی گڑھ | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
MA | Gomal University, ڈیرہ اسماعیل خان | |||
PhD | JMI, نئی دہلی | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | The University of Lahore, لاہور | |||
PhD | Aligarh Muslim University, علی گڑھ | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
منشی میراں بخش جلوہ انیسویں صدی کے ربع آخر میں سیالکوٹ میں اردو میں شعرو شاعری کرتے تھے۔ انجمنِ حمایتِ اسلام کے جلسوں میں شریک ہوتے ہوئے نظمیں پڑھتے تھے۔ آپ سراج الاخبار(جہلم) کے سیالکوٹ میں نمائندہ تھے۔ جلوہ کے پانچ شعری مجموعے گلشنِ نعت‘ جلوہ حق‘ تحفہ جلوہ‘ نوحہ جلوہ‘ دیوان جلوہ اور ایک نثری کتاب جو جلوہ کی شعری تصانیف کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے۔ شائع ہو چکی ہیں۔(۵۳) جلوہ کی مذکورہ بالا کتب نایاب ہیں۔
مولانا عبد المجید سالک اپنی تالیف’’ذکرِ اقبال‘‘ میں جلوہ سیالکوٹی کے بارے میں لکھتے ہیں:
ایک شاعر منشی میراں بخش جلوہ سیالکوٹی تھے جو اکثر انجمنِ حمایتِ اسلام میں بھی آ کر نظمیں پڑھا کرتے تھے۔ نہ جانے کہاں سے شعر کہنے کی لت پڑ گئی۔ شعر کیا تھے پکوڑے تل لیا کرتے تھے۔ ان دنوں خزانے کے ایک کلرک اہلِ زبان تھے جلوہ صاحب ان کو اکثر شعر سنایا کرتے تھے۔ ایک روز انہوں نے تنگ آ کر کہا بھائی جلوہ تمہارے شعروں سے چھیچھڑوں کی بو آتی ہے۔ جلوہ صاحب تاؤ کھا کر شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کو اپنے اشعار سنا کر پوچھا کہ یہ اشعار کیسے ہیں شاہ صاحب۔ شاہ صاحب سے مراد مولوی سید میر حسن ہیں ‘ نے فرمایا سچ پوچھتے ہو تو تم نے شعروں کا جھٹکا کر دیا ہے۔(۵۴)
میراں بخش جلوہ فن تاریخ گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔ شاعرِ کشمیر منشی محمد دین فوق کے چچا منشی غلام محمد خادم کا بیٹا محمود فوت ہوا تو جلوہ نے کئی تاریخیں کہیں جن میں سے ایک یہ ہے:
مر گیا جلوہ جو خادم کا پسر نام تھا محمود اور تھانیک خو
کیوں نہ خادم روئے سر کو پیٹ کر مل گیا ہے خاک میں