محمد بشیر ڈار
علم الدین سالک
MA
University of the Punjab
لاہور
1954
Urdu
تہذیب و ثقافت , سکھ مت
2023-02-16 17:15:59
2023-02-16 22:08:49
1676731848188
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
MA | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
PhD | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
MA | The University of Haripur, ہری پور | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
Mphil | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
PhD | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
PhD | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
Mphil | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
Mphil | The Islamia University of Bahawalpur, Bahawalpur, Pakistan | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
علامہ شبیر احمد عثمانی
افسوس کہ آج قلم کو اس ہستی کا ماتم کرنا پڑ رہا ہے جو ساری عمر قوم و ملت کی غم گسار رہی، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی کی وفات کا سانحہ نہ صرف پاکستان بلکہ علمی و مذہبی دنیا کا بڑا حادثہ ہے، و ہ اس دور کے جلیل القدر عالم، متبحر فاضل، نامور خطیب اور صاحبِ بصیرت مدبر تھے، دینی علوم میں ان کا پایہ بہت بلند تھا، ان کی ساری عمر ان کی خدمت میں گذری، برسوں دارالعلوم دیوبند میں ان کا علمی فیض جاری رہا۔ پھر ڈابھیل (سورت) کی مشہور دینی درسگاہ میں چلے گئے اور وہاں کئی سال تک ان کے درس و افاضہ کا سلسلہ قائم رہا۔ قرآن مجید پر ان کا اردو حاشیہ موضح الفرقان اور صحیح مسلم کی ضخیم عربی شرح فتح الملہم ان کا بڑا علمی و دینی کارنامہ ہے، اس کے علاوہ چند چھوٹی چھوٹی تصانیف بھی ان کی یادگارہیں۔
ملکی اور قومی کاموں میں بھی ان کا حصہ رہا ہے، وہ عرصہ تک جمعیۃ العلماء کے شریک کار رہے، پھر پاکستان کی تحریک کے بعد مسلم لیگ میں شامل ہوگئے، اور جمعیۃ علمائے اسلام کے صدر منتخب ہوئے اور پاکستان کی تبلیغ و اشاعت میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا، اس کے چند ممتاز بانیوں میں سے ایک وہ بھی تھے، قیام پاکستان کے بعد کراچی چلے گئے، اور اس کی دستور ساز اسمبلی کے رکن مقرر ہوئے، پاکستان میں ان کی حیثیت مذہبی مشیر کی تھی، اور حکومت کے ارکان پر ان کے علم و عمل، تقویٰ و دیانت، فہم و فراست، اخلاق و سیرت اور استغنا و بے نیازی کا بڑا اثر تھا، اور ان کی ذات سے پاکستان کی مذہبی اصلاح کی بڑی امیدیں وابستہ تھیں، لیکن افسوس موت نے اس کا موقع نہ دیا، اور گذشتہ ۱۳؍...