جمیل الرحمٰن
محمد نواز
Mphil
University of Gujrat
گجرات
2016
Urdu
دیگرائمہ و محدثینِ کرام
2023-02-16 17:15:59
2023-02-19 12:20:59
1676733035450
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Mphil | University of Gujrat, گجرات | |||
Mphil | University of Gujrat, گجرات | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Mphil | University of Balochistan, کوئٹہ | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | |||
Mphil | Lahore Garrison University, لاہور | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
PhD | Peshawar University, Peshawar, Pakistan | |||
Mphil | Qurtuba University of Science and Information Technology, ڈیرہ اسماعیل خان | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
PhD | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | University of Malakand, مالاکنڈ | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
اسلامی ریاست میں قوانینِ حدودو قصاص کی تنفیذ کے لیے لازمی ہے کہ عدالت کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ عوام کوفوری اور سستے عدل کی سہولت فراہم کی جائے ۔ عدالتی نظام میں فوری اور سستے عدل کی فراہمی بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ عدل وانصاف کی فراہمی میں بہت ذیادہ وقت لگنے کے بعد قانون کانفاذ اپنی افادیت کھو بیٹھتا ہے۔ اسی طرح اگر عدل و انصاف کی فراہمی کے لیے بھاری رقم بھی درکار ہو ، تو قانون سازی کا مقصد فوت ہوکر رہ جائے گا۔ لہذا ضروری ہے کہ عدالتیں رعا یا کو فور ی اور سستے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں ۔ہمیں عہد نبوی ﷺ اور عہد صحابہ کر ام سے بے شمار مثالیں ملتی ہیں کہ مقدمہ عدالت میں آ جانے کے بعد اس کا فوری فیصلہ کیا جاتا تھا اور اس پر عمل درآمد کروایا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ عدلیہ کا انتظامیہ کی بے جا مداخلت سے آزاد ہونا اور سب پر بالادستی ہونا قیام عدل کی لازمی شرط ہے ۔ اسلام کے نظام عدل میں عدالت حاکم وقت سے لے کر عام شہر ی تک ہر ایک کو جواب دہی کے لیے طلب کر سکتی ہے اور قانون کے مطابق سزا بھی دے سکتی ہے اور عدالت کےکام میں انتظامیہ کا کوئی چھوٹا یا بڑا مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ یہ قاضی یا جج کی بالا دستی نہیں بلکہ قانون کی بالا دستی ہے جو خود جج یا قاضی پر بھی عائد ہوتی ہے ۔ موجودہ عدالتی نظام اس ضرورت کو پورا نہیں کررہا ، بلکہ اس کا کام تو عوام الناس کے درمیان مستقل کشمکش کو باقی رکھنا اور مقدمہ بازی کو مستقل صور ت دینا ہے۔ اسلام کا نظام عدل اس چیز کو بر داشت نہیں کرتا۔
فور ی...