Search or add a thesis

Advanced Search (Beta)
Home > سلاسل صوفیا میں مباحث ذکر: ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ

سلاسل صوفیا میں مباحث ذکر: ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ

Thesis Info

Author

محمد طارق

Supervisor

محمود سلطان کھوکھر

Program

Mphil

Institute

Bahauddin Zakariya University

City

ملتان

Degree Starting Year

2017

Language

Urdu

Keywords

اذکار , شخصیات , تذکرہ صوفیائے کرام

Added

2023-02-16 17:15:59

Modified

2023-02-19 12:20:59

ARI ID

1676733147090

Similar


Loading...
Loading...

Similar Books

Loading...

Similar Chapters

Loading...

Similar News

Loading...

Similar Articles

Loading...

Similar Article Headings

Loading...

معافی دا اثر

معافی دا اثر

آکھیا جاندا اے کہ کسے پنڈ وچ دو بندے رہندے سن۔ دونویں اکو محلے وچ رہندے سن۔ اکو سکول وچ پڑھدے سن تے آپس وچ دوست وی سن، پر عادتاں دونواں دیاں اک دوسرے توں الٹ سن۔ جس پاروں اک نوں تے لوک پسند کردے سن تے دوجے نوں برا آکھ کے نفرت کردے سن۔ اک دا ناں عامر سی۔ بہت ای نیک، محنتی تے فرماں بردار سی۔ اوس کدے اپنے ماں پیو نوں تنگ نئیں سی کیتا۔ پڑھائی وچ بہت تیز، اخلاق دا چنگا تے ماں باپ دی ہر گل مندا سی۔ پڑھائی وچ چنگا ہوون پاروں سارے استاد اوس نال پیار کردے سن۔ سارے دوست اوس توں خوش تے اوہدی تعریف کردے سن۔ ایس لئی کہ اوہ دوستاں دا خیال رکھدا تے پڑھائی وچ اوہناں دی مدد کردا رہندا۔

جدوں کہ جبار بہت زیادہ لاپرواہ سی، ہر ویلے شرارتاں کردے رہنا تے الٹے سدھے کم کرنے۔ سکول وچ سب توں زیادہ نالائق۔ جس وجہ توں استاد اوس نوں پیار نئیں سی کردے تے نہ کوئی اوہدا جماعتی اوہنوں دوست بناندا۔ سارے محلے والے اوہدیاں شرارتاں توں تنگ سی۔ گلی چوں لنگھدے ہویاں جانوراں نوں چھیڑنا، بزرگاں نال بدتمیزی نال بولنا، بالاں کولوں چیز کھو کے کھا لینا، اوس دی عادت سی، اوہ اپنے والدین دی عزت نئیں سی کردا تے نہ ای اوہنوں کسے دی عزت دا خیال سی۔ اوس دے سکول والے تے والدین اوس کولوں بہت تنگ سی۔ اوہ اکثر سکول نہ جاندا تے آوارہ منڈیاں نال آوارہ گردی کر دا رہندا۔ سکول دے کیفے اتے بہہ کے سگریٹ پیندا تے اک دوجے نوں مذاق کردا، ہر استاد نال بدتمیزی نال بولدا تے کدے کدے کلاس روم دے باہر کھڑا ہو کے اپنی حاضری بولدا تے اوتھوں نسدے ہوئے اپنے آوارہ دوستاں کول آ...

پاکستان میں رائج جبری شادیوں کا تعارف اور شرعی جائزہ

The Islamic Jurisprudence has given a great importance to the existence of family system of life. That is why the Qur‘ān has described the laws of family life with details in comparison with worship of Allah. In family system of life, marriage has a great importance but marriage is not only essential part of worship. Its purposes one the existence   of human generation along with the survival society where there must be modesty and justice but it is only possible if the family system of life is established on everlasting principles. That is why our Islamic Jurisprudence has declared the willingness of both bridegroom and bride and their family more importance in the marriages. Such marriages are always durable and permanent. On the contrary, if there is no willingness of both the bridegroom and bride in marriages. Then such marriages are not durable and permanent. In marriage a girl is a party and the Islamic jurisprudence has given a great deal of importance to her willingness but in pusthoon society, sometimes such marriages are conducted in which the bride concerned has no approval rather she is forced to accept that bond of marriage such marriages are commonly called “Forced Marriages”. The article below is defining the different kinds of forced marriages in vogue and is trying to find out their religious and dogmatic status as well.

احادیث نبویہ میں تیسیر ۔اسرار وحکم

الحمد لله رب العٰلمين،خلق فقدر،ورفع فيسِّ،ولَ یجعل للی الناس فی الدين من حرج ، والصلٰوة والسلامللٰ ی رسوله اأن أمين ما خیر بين شمرين الَ اختيار شيسِّهما ما لَ يكن مش ثمً وللی آله و صحبه اجمعين ومن تبعهم باحسان الی يومالدين۔ اما بعد! موضوع کا تعارف اور ضرورت و اہمیت: اللہ رب العدت نے انسان کی تخلیق فرما کر اس کی رشد و ہدایت اور فلاح و اصلاح کے لیے انبیا اور ہر دور ? ء کومبعوث کے انساویں کی رہنمائی کے لیے دین مقرر فرمایا، جس کی لیمات ت کی روشنی میں وہ اپنی زندگی بسر کر سکیں اور دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ کی رضا و خوشنودی کے مستحق ٹھہریں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے پہلے انساویں کے لیے دین کی بنیادی چیزیں مقرر فرمائی تھیں ویسے ہی مسلماویں کے لیے بھی قرآنِ مجید کو منبعٔ رشد و ہدایت قرار دیا اور ساتھ ہی اس کی عملی تعبیر و تشریح کے لیے اپنے نبی حضرت محمدصلى الله عليه وسلم کو مبعوث فرمایا۔ اللہ رب العدت نے ان کی عملی تعبیر کو ساری انسانیت کے لیے حسنہ قرار د ٔ اسوہ یا اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کی ہدایت کی۔ مسلماویں کےلیے قرآن مجید او ر سنتِ رسولصلى الله عليه وسلم ہی بنیادی چیزیں ہیں جن سے وہ رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں اور جنہیں معیار کی کسوٹی قرار دے سکتے ہیں۔ م فطری اورعالمی دین ہےاس لیےیہ ضروری تھا کہ اس کے احکام میں لوگوں کی صفات ،احوال اور ان کے مساکن کا ? ا خیال رکھا جاتا ،اسی لئے فرائض دینیہ میں مکلفین کے حالات،انفرادی استعداد اور موقع و مناسبت کی حد درجہ رعایت رکھی گئی ہے ، کسی ل پ کا مکلف ہونا استطاعت اور قدرت سے مشروط ہے اور معاملات زندگی میں معقول ترین ،آسان ترین اور مئوثر م میں عفوودرگزر،رواداری،آسانی،نرمی اور تیسیر مسلسل دھرائے جانے ? ترین انداز اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دین ا قہیں،اس میں سختی،تنگی،حرج ،تلخی اور قساوت قلبی سے کام لینے کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ?والے ا ہے۔ ] يُرِيدُ اللهَُّ بِكُمُ الْ يُسَِّْ وَلَ يُرِيدُ بِكُمُ الْعُ سِّ [ ( 1 ) ’’اللہ تعالیٰ تم سے آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا ۔‘‘ م کی صفت تیسیر کی وضاحت میں فرمایا: ? رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے دین ا إِنَّ الدِّينَ يُسٌِّْ، وَلَ وُا، وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَ « نْ يُشَادَّ الدِّينَ شَحَدٌ إِلََّ غَلَبَهُ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَشَبْشِِ ۃ ( 1 ) البقرہ ، 2 : 185 3 » وَالرَّوْحَةِ وَشَیْ مِنَ الدُّلَْْةِ ( 1 ) ’’بے شک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی کرے گا دین اس پر غالب آجائے گا )اس کی سختی نہ چل سکے گی( پس اپنے ل پ میں پختگی اختیار کرو اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی اور نرمی برتو اور خوش ہو جاؤ اور صبح ،دوپہر، شام اور کچھ قدر رات کو مدد حاصل کرو۔‘‘ م میں پائی جانے والی وسعت، ? م کی توجہ دین ا ? قرآن مجید میں کئی ایک مقامات پر اہل ا آسانی، سہولت،نرمی،گنجائش،عدم حرج،قلّت تکلیف،دریج اور تیسیر کی طرف مبذول کرائی گئی اور رسول اللہصلى الله عليه وسلمکی بعثت کا گیا ہے کہ آپصلى الله عليه وسلم لوگوں کو بے جا پابندیوں اور ناروا بندشوں سے چھٹکارہ دلانے اور ان کی راہنمائی ? مقصد بھی یہ بیان سہولت ، وسعت ،آسانی اور تیسیر پر مبنی احکام کی طرف فرمانے کے لیے تشریف لاے تھے۔آپ صلى الله عليه وسلم کی اس صفت کا ذکراللہ ٰ تعال نے قرآن مجید میں ان الفاظ میں فرمایا: ]لَقَدْ جا کُمْ رَسُولٌ مِنْ شَبْفُسِكُمْ لَزِيزٌ لَلَيْ هِ ما لَنِتُّمْ حَرِيصٌ لَلَيْكُمْ بِالمُْؤْمِنِينَ رَؤُ رَحِيمٌ [ ( 2 ) ’’البتہ حقیقتمہارے پاس ایک ایسا رسول تشریف لایا ہے جو تمہاری جنس سے ہے جس کو تمہاری تکلیف کی بات دااں گزرتی ہے جو تمہاری منفعت کا خواہش مند رہتا ہے ایمان داروں کے ساتھ بڑا ہی مہربان ا ور شفیق ہے۔‘‘ گیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ? سورہ الاعراف میں بھی اس صفت تذکرہ ]وَيَضَ عُ لَن هُ مْ إِصَْ هُ مْ وَاأْن غْلالَ الَّت ی کابَتْ لَلَيْ هِ مْ [ ( 3 ) ’’اور وہ ان سے ان کے بوجھ اتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔‘‘ رسول اکرمصلى الله عليه وسلم نے خود اپنی بعثت کا مقصد یوں بیان فرمایا ہے : » إِنَّ اللهَ لََْ يَبْ عَثْنِی مُعَنِّتًا، وَلََ مُتَعَنِّتًا، وَلَكِنْ بَعَثَنِی مُعَلِّمًً مُيَسًِِّّا « ( 4 ) ’’اللہ نے مجھے سختی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے نہ تکلیف دینے والا بنا کر بھیجا ہے،بلکہ اس نے مجھے آسانی کرنے والے معلم کی حیثیت سے مبعوث فرمایا ہے۔‘‘ رسول اکرم صلى الله عليه وسلمنہ صرف خود لوگوں کے لئے آسانی اور تیسیر کو پسند کرتے تھے بلکہ آپ صلى الله عليه وسلمجب اپنے اصحاب کؓو کسی علاقہ میں کوئی دار اہم ذمّ ی سونپتے تب بھی ان کو لوگوں کے ساتھ نرمی،آسانی اور تیسیر اختیار کرنے کی نصیحت فرماتے ( 1 ) ب الایمان ،باب الدین یسر،حدیث نمبر: ? الجامع الصحیح ، 39 ( 2 ) التوبہ، 9 : 128 ( 3 ) الاعراف 7 : 157 ( 4 ) قاالا بالنیۃ،رماحدییث: ? ب الطلاق ،باب بیان ان تخییرامراۃ لایکون ? صحیح مسلم، 1478 4 تو انہیں یہ ہدایات ? تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلمنے جب حضرت معاذبن جبل اور حضرت ابو مو الاشعری کویمن کے لئے روانہ فرمائیں: » يَسَِِّّا وَلََ تُعَسَِِّّا، وَبَشَِِّا وَلََ تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَلَا « ( 1 ) ’’سختیوں سے اجتناب اور آسانیاں پیدا کرنا،لوگوں کو خوشیوں کے پیغام دینا اور نفرتیں نہ پھیلانا اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا۔‘‘ اسی طرح آپ صلى الله عليه وسلم نے واام اناسس کو بھی یہی نصیحت فرمائی ہے کہ باہم آسانی اور تیسیر سے کام لیں سختی اور مشکلات پیدا کرنے سے اجتناب کریں۔ » يَسُِِّّوا وَلََ تُعَسُِِّّوا، وَسَكِّنُوا وَلََ تُنَفِّرُوا « ( 2 ) ’’تم سختی کی بجائے آسانیاں پیدا کرو اور آپس میں با ہم سکون کے ساتھ رہو اور نفرتوں سے ہر حال میں بچے رہو۔‘‘ آپ صلى الله عليه وسلم کے ہاں ہر معاملہ انسانی میں آسانی اور تیسیر کس قدر پسندیدہ تھی،سختی اور تشدد کس قدر ناگوار تھا اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم ایسے آدمی کے لئے دعا فرمایا کرتے تھے جو خلق خدا کے لئے تیسر اور آسانی پر مبنی سلوک کرتا ہے اور جو لوگوں کے لئے نرمی اور گنجائش کے پہلو کو نظراندازکردیتا ہے اس کے لئے بدعا فرماتے۔ اللهُمَّ، مَنْ وَلِیَ مِنْ شَمْرِ شُمَّتِی شَيْئًا فَشَقَّ لَلَيْهِمْ، فَاشْقُقْ لَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِیَ مِنْ شَمْرِ شُمَّ تِی شَيْئًا فَرَفَقَ بِِِمْ، « » فَارْفُقْ بِهِ ( 3 ) ’’اے اللہ جو میری امت کے کسی کام کا والی بنایا گیا اور اس نے اس پر سختی کی تو بھی اس پر سختی فرما اور جو کوئی میری امت کے کسی کام پر والی بنایا گیااور اس نے ان کے ساتھ نرمی کی تو بھی اس سے نرمی فرما۔‘‘ رسول اکرم صلى الله عليه وسلم کی بنیادی دار ذمّ ی اللہ تعالیٰ کے کلام کے معانی و مفاہیم کا تعین،جملات کی تفصیل،بہمات کی تبیین،مشکلات کی تفسیر،نایات کی تصریح اور اشارات کی توضیح کرناتھا۔آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی اس بنیادی دار ذمّ ی کو نبھاتے ہوئے ایسے انداز میں احکام الٰہی کی تعبیر و تشریح فرمائی کہ مسلمان احکام الٰہی پر ل پ را ا ہونے میں تنگی اور حرج میں مبتلا نہ بلکہ ہر جگہ ان کے لئے تیسیر ? ہوں، اسی لئے آپ صلى الله عليه وسلمنے مسلماویں کے لئے کسی بھی جگہ آسانی اور تیسیر کا دروازہ بند نہیں م میں تشدد،تعصب،قساوت قلبی،سختی اور حرج پیدا کرنے والے نظریات اور ? ، تاکہ دین ا ? اور آسانی کے پہلوں کواجادا رو یوں کے لئے کوئی جگہ باقی نہ رہے۔ ( 1 ) ب الادب، باب قول النبی یسروا ولاتعسروا،رماحدییث: ? الجامع الصحیح، 6124 ( 2 ) ب الادب، باب قول النبی یسروا ولاتعسروا،رماحدییث: ? الجامع الصحیح، 6125 ( 3 ) ب الامارۃ،باب فضیلۃالامیر،رماحدییث: ? صحیح مسلم، 1828 5 موجودہ دور میں مسلماویں کے مزاج میں نفلی ا ت اور د ب ح ست م عبادات، ینی و دنیاوی فرائض کی ادائیگی میں بےجا سختی اور م کی آسانی اور تیسیر کے ? تعصب کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیشِ نظر، ضرورت اس امر کی تھی کہ ایسے حالات میں دین ا جائے جس کی روشنی میں تعصب،فرقہ واریت،تشدد،انتہا پسندی اور بے جاسختی پر مبنی رجحانات ،نظریات اور ? پہلوکو اجادا رو یوں کی صحیح سمت کی طرف راہنمائی کی جائے،اسی کے پیش نظر مقالہ نگار نے’’ احادیثِ نبویہ میں تیسیر۔ اسرار و حکم‘‘کے م کے تیسیر ? تاکہ ایسے افراد جو دین ا ? میہ کے دوسرے بڑے مآخذ حدیث رسول صلى الله عليه وسلم کا انتخاب ? عنوان سےشریعت ا اور آسانی کے پہلوں کو نظر انداز کرتے ہوئےویافل اورمستحبات میں اس قدر سختی سے کام لیتے ہیں کہ اپنے اور دیگرافرادکے لئے کئی ایک مشکلات اور پریشانیاں جنم دیتے ہیں وہ ان فرامین کی روشنی میں اپنے رو یوں ،رجحانات اور نظریات میں نرمی اور آسانی پیدا کرتے ہوئے راہ اعتدال کو اختیار کر سکیں۔ ? احادیث نبویہ میں تیسیر کے پہلوں کو روشن کرنے کے لیے حدیث کی بنیادی کتا سے آپ صلى الله عليه وسلم کے فرامین کا انتخاب گیاہے اور تیسیر پر مبنی احادیث کی تشریح و توضیح سلف صالحین کے نقطہ نظر کی روشنی میں بیان کرنے کے لئے شروحاتِ احادیث گیا ہے ۔ ? میں سے امہات الکتا کا سہارا مقالہ ذہ پانچ ابواب میں ٰ ٰ ہ منقسم ہے۔ گیا ہےاور تیسیر کی تائید میں قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ سے ? پہلے باب میں تیسیر اوراسرار و حکم کا معنی ومفہوم بیان دلائل بھی ذکر کئے گئے ہیں۔ دوسرے باب میں تیسیر نبویصلى الله عليه وسلمکی بنیادیں اور اسالیا کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ آپ صلى الله عليه وسلم کی صفت تیسیر کو اجادا گیا ہے۔ ? کرنے کے لئے بائبل دس س سے بھی موازنہ پیش تیسرے باب میں طہارت کے ول ل،فرض اور نفل عبادات میں آپ صلى الله عليه وسلم کی اختیار کردہ نرمی،آسانی اور سہولت کی وضاحت کی گئی ہے۔ گیا ہے۔ ? چوتھے باب میں اصلاح معاشرہ اور دوات دین میں آپ صلى الله عليه وسلم کی آسانی اور تیسیر پر مبنی ہدایات کا جائزہ پانچویں باب میں امور جہاد اور حدود و تعریرات کے بارے میں فرامین نبوی صلى الله عليه وسلم کے اسرار و حکم کی وضاحت کی گئی ہے۔ مقالہ کے آخر میں خلاصہ بحث اور سفارشات پیش کی گئی ہیں اور مصادر ومراجع کی فہرست مرتب کر دی گئی ہے۔ م کی جو صحیح ترجمانی ہو اس کے لئے دلوں میں قبولیت کی صلاحیت عطا فرمائے ? رب کریم سے التجا ہے کہ اس مقالہ میں ا ادا اس میں کوئی کوتاہی ہو تو اس سے پہنچنے والے نقصان کو بے اثر کردے ۔آمين يارب العالمين۔" xml:lang="en_US