زہرہ بتول،سیّدہ
مستفیض احمد علوی
Mphil
GIFT University
گوجرانوالہ
2016
Urdu
اہل بیتؓ
2023-02-16 17:15:59
2023-02-19 12:20:59
1676733211548
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Mphil | GIFT University, گوجرانوالہ | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
BS | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
PhD | University of Karachi, کراچی | |||
PhD | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | University of Faisalabad, فیصل آباد | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
Mphil | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
Mphil | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | GIFT University, گوجرانوالہ | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
PhD | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
PhD | University of Karachi, Karachi, Pakistan | |||
Mphil | University of Gujrat, گجرات | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
پروفیسر عبدالمغنی کی رحلت
۵؍ ستمبر کو اردو کے ممتاز ادیب و نقاد پروفیسر عبدالمغنی اپنے مالک حقیقی سے جاملے، ان کے دماغ پر فالج کا حملہ ہوا تھا، علاج کے لیے پٹنہ کے ایک اسپتال میں داخل کیے گئے تھے، وہیں صبح سات بجے داعی اجل کا پیغام آگیا، اناﷲ وانا الیہ راجعون۔
وہ صوبہ بہار کے ضلع اورنگ آباد کے ایک دینی گھر انے میں ۴؍ جنوری ۱۹۳۶ء کو پیدا ہوئے تھے، ان کے والد ماجد مولانا عبدالرؤف اورنگ آبادی ندوی ایک ممتاز عالم تھے جن کے مضامین معارف میں چھپتے تھے اور ایک بھائی پروفیسر اقبال حسین مظفرپور یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر رہ چکے ہیں، عبدالمغنی صاحب نے ابتدائی تعلیم اورنگ آباد کے مدرسہ اسلامیہ میں حاصل کی تھی اور یہیں غالباً انہوں نے قرآن مجید بھی حفظ کیا تھا، عربی درسیات کی تکمیل مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ میں کی تھی، پھر جدید تعلیم کے لیے انگریزی اسکولوں اور کالجوں کا رخ کیا، فراغت کے بعد پٹنہ یونیورسٹی کے کسی کالج میں انگریزی کے استاد ہوگئے، وہ ایک اچھے اور نیک نام استاد تھے، انگریزی میں چند کتابیں بھی لکھیں مگر ان کی اصل تصنیفی زبان اردو تھی، ان کا شمار اردو کے زود نویس اہل قلم اور مصنفین میں ہوتا ہے وہ قلم برداشتہ لکھتے تھے۔
مرحوم کو اپنی مادری زبان اردو سے عشق تھا، علاوہ کثرت تصنیف کے وہ اردو تحریک کے بڑے سرگرم مجاہد بلکہ بہار میں اردو تحریک کے صف اول کے قائد تھے اور مدت دراز تک انجمن ترقی اردو کی بہار شاخ کے صدر تھے، ان کی عملی قوت اور تنظیمی صلاحیت نے بہار کی انجمن ترقی اردو کو بہت متحرک و فعال اور دوسری ریاستی انجمنوں سے زیادہ کارگزار بنا دیا تھا، عبدالمغنی صاحب کی سعی و جاں فشانی سے ۱۹۸۰ء میں سب سے پہلے...