ریحانہ مرید علی
مستفیض احمد علوی
Mphil
GIFT University
گوجرانوالہ
2014
Urdu
اسلام اور مستشرقین , تاریخ،قبل از اسلام
2023-02-16 17:15:59
2023-02-19 12:20:59
1676733212785
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Mphil | GIFT University, گوجرانوالہ | |||
Mphil | GIFT University, گوجرانوالہ | |||
Mphil | University of Sindh, جام شورو | |||
MEd | Aga Khan University, Karachi, Pakistan | |||
MS | University of Management and Technology, Lahore, Pakistan | |||
MS | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
MS | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
MA | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | University of Malakand, Malakand, Pakistan | |||
BPY | COMSATS University Islamabad, Islamabad, Pakistan | |||
MA | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
University of Karachi, Karachi, Pakistan | ||||
PhD | University of Malakand, مالاکنڈ | |||
MS | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
PhD | Allama Iqbal open University, Islamabad, Pakistan | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
MEd | Aga Khan University, Karachi, Pakistan | |||
MA | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
MS | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
MA | International Islamic University, Islamabad, Pakistan | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
مارماڈیوک پکھتال
مارماڈیوک پکھتال انگریزی کے بلند پایہ انشاء پرداز انگریز تھے، مدت تک مصر اور ترکی میں رہے تھے اور وہیں اسلام کے تاثرات نے ان کے دل میں گھر کیا تھا اور اسلام کے سچے پیرو ہوگئے تھے، ۱۹۲۰ء میں لندن میں ان سے جمعہ کی نماز میں اسلامی جماعت خانہ میں ملاقات ہوا کرتی تھی، وہ بالکل مسلمانوں کی طرح نماز پڑھا کرتے تھے، جماعت خانہ میں ان کی ترکی ٹوپی نماز کے لئے رکھی رہتی تھی، جس کو وہ نماز کے وقت پہن لیتے تھے، لارڈ کرومر کے زمانہ میں مصر میں تھے۔
ترکی اور رواں عربی زبان بولتے تھے اور جانتے تھے، ترکوں کی ہمدردی میں طرابلس کے زمانہ میں کچھ رسائل لکھے تھے، لندن میں ان سے گھنٹوں باتیں ہوا کرتی تھیں، اس کے بعد ہی وہ بمبئی کرانیکل کے ایڈیٹر ہوکر آگئے، چنانچہ وہاں بھی ان سے ملاقات ہوئی، پھر وہ حیدرآباد دکن چادر گھاٹ ہائی اسکول کے ہیڈماسٹر اور وہاں کی سول سروس کے اتالیق ہوگئے تھے، اس زمانہ میں جب حیدرآباد جانا ہوا، محبت سے مجھے اپنے یہاں بلاتے رہے، اسی زمانہ میں قرآن پاک کا ترجمہ شروع کیا، غالباً ۱۹۲۷ء میں مدراس میں جب ان سے ملاقات ہوئی تو اپنے انگریزی ترجمہ کا ذکر کیا، اور سورۂ مریم کا ترجمہ دیکھنے کو دیا، وہ کہتے تھے کہ مولوی محمد علی لاہوری کے غلط سلط ترجمہ کو انگریزوں کے ہاتھوں میں دے کر شرماتا ہوں اور جی چاہتا ہے کہ اس کا ایک آتشیں ترجمہ کروں جو دلوں کو گرما دے، چنانچہ حیدرآباد کی مالی امداد سے مصر جاکر اس ترجمہ کو پورا کیا اور چھپا اور یہ ان کا بڑا کارنامہ ہے، یہ وہ نومسلم انگریز تھے جو ایمان کے ساتھ عملاً نماز و روزہ کے پابند تھے، اﷲ تعالیٰ ان پر رحم و کرم فرمائے۔