محمد اشفاق
مسعود احمد مجاہد
MA
Minhaj University Lahore
لاہور
2012
Urdu
تدوینِ حدیث , خلفائے راشدینؓ
2023-02-16 17:15:59
2023-02-16 22:08:49
1676733219933
مولانامحمد اویس نگرامی ندوی
افسوس ہے مولانا محمد اویس صاحب نگرامی بھی ایک طویل علالت کے بعد ؟اگست کی سہ پہر کولکھنؤ میں داعی اجل کولبیک کہہ کر اس خاکدانِ عالم سے رخصت ہوگئے۔ عمر ترسٹھ کے لگ بھگ ہوگی۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔
نگرام لکھنؤ کاایک مردم خیز قصبہ ہے ،مولانا یہاں کے ایک نامور علمی خاندان کے چشم وچراغ تھے ۔تعلیم ندوہ میں پائی ،فراغت کے بعد دارالمصنفین اعظم گڈھ چلے گئے، کم وبیش سات برس یہاں مقیم رہ کر’ سیرت النبی‘ جلد اول پر نظرثانی کی۔ حافظ ابن قیم نے اپنی تصنیفات میں جہاں کہیں کسی آیت سے متعلق تفسیری کلام کیا ہے اُن سب کوتفسیر ابن قیم کے نام سے یکجا مرتب کیا،علاوہ ازیں معارف میں بھی متعدد مقالات لکھے ۔یوں توسب ہی علوم اسلامیہ میں پختہ استعداد رکھتے تھے لیکن قرآن مجید کاذوق سب پرغالب تھا۔ چنانچہ یہ سب مقالات بھی قرآن مجیدسے متعلق ہیں، دارالمصنفین سے جب وہ ندوۃ العلما میں منتقل ہوئے تویہاں بھی اُن کاخصوصی مشغلہ درسِ قرآن ہی رہا،مدرسہ کے اندر اوراُس کے باہر بھی۔ندوہ میں آنے کے بعد درس کی ہمہ گیر مصروفیتوں کے باعث وہ تصنیف وتالیف کی طرف زیادہ توجہ نہیں کرسکے،تاہم جوکچھ لکھ گئے ہیں اُس کی افادیت میں کلام نہیں ہوسکتا۔
طبعاً نہایت شگفتہ مزاج ،خوش خلق ،خوش پوشاک وخوش خوراک تھے، خندہ جبینی اُن کی فطرت تھی،عملاً نہایت صالح اور اوراد و وظائف تک کے پابند تھے۔ مولانا سیدحسین احمدصاحب مدنی ؒ سے بیعت تھے اور اس سلسلہ میں اُن سے برابر مراسلت بھی رکھتے تھے۔ اﷲ تعالیٰ غریقِ رحمت فرمائے۔
[اکتوبر ۱۹۷۶ء]