سمیرا کوثر
مطلوب احمد
PhD
Government College University Faisalabad
فیصل آباد
2015
Urdu
حجیتِ حدیث , خبرِ واحد , فقہ و اُصولِ فقہ , قیاس
2023-02-16 17:15:59
2023-02-16 22:08:49
1676733252775
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
PhD | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Mphil | University of Peshawar, پشاور | |||
MA | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
Mphil | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
Mphil | Islamia College University Peshawar, پشاور | |||
PhD | University of Karachi, کراچی | |||
PhD | University of Karachi, کراچی | |||
PhD | The Islamia University of Bahawalpur, بہاولپور | |||
PhD | University of the Punjab, Lahore, Pakistan | |||
MA | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
MS | HITEC University Taxila Cantt, ٹیکسلا | |||
Allama Iqbal Open University, Islamabad, Pakistan | ||||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
MA | University of Balochistan, کوئٹہ | |||
Mphil | University of Sindh, جام شورو | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | The University of Lahore, لاہور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
مولانا عبدالصمد شرف الدین
یہ خبر بڑے افسوس کے ساتھ سنی گئی کہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں مولانا عبدالصمد شرف الدین نے داعی اجل کو لبیک کہا، اِنا ﷲ وَاِنا اِلیہ رَاجِعونْ۔
راقم نے جب عربی پڑھنی شروع کی تھی تو اس وقت اکثر عربی کتابوں پر شرف الدین الکتبی اولادہ لکھا دیکھا، معلوم یہ ہوا کہ یہ عربی کتابوں کے بہت بڑے تاجر ہیں جن کا مکتبہ بھنڈی بازار بمبئی میں محمد علی روڈ پر ہے، اس سے اس زمانے کے تمام عربی خواں بلکہ مبتدی بھی واقف تھے۔
مولانا عبدالصمد انہی مولانا شرف الدین الکتبی کے صاحبزادے تھے جو بمبئی سے بھیونڈی آکر کتابوں کا کاروبار کرنے لگے تھے، مولانا کی ابتدائی تعلیم بمبئی کے کسی انگلش میڈیم اسکول میں ہوئی تھی، اس کی وجہ سے انہیں انگریزی پر پوری قدرت ہوگئی تھی اور عربی تو ان کے گھر ہی کی زبان تھی، عربی زبان و ادب کی کتابیں انہوں نے عربی کے مشہور ادیب و فاضل مولانا محمد سورتی سے پڑھیں، اس طرح عربی اور انگریزی میں انہیں اردو سے زیادہ مہارت حاصل تھی۔
مولانا خود اور ان کے والد بزرگوار بھی عربی کتابوں کی تجارت و اشاعت کا کام کرتے تھے، اس کے سلسلے میں ان لوگوں کی آمدورفت برابر عرب ملکوں میں رہتی تھی اس لیے ان کی اکثر رشتہ داریاں بھی وہیں تھی اور ان کے خاندان کے بعض افراد عرب ملکوں ہی میں آباد ہوگئے ہیں۔
۱۹۹۲ء میں ان سطور کے راقم کو حج بیت اﷲ کی سعادت میسر آئی تھی، اسی موقع پر رابطہ عالم اسلامی کے اس وقت کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر عبداﷲ عمر نصیف سے بھی ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا، میں ڈاکٹر صاحب کو اردو سے بالکل ناواقف سمجھ کر ان سے ٹوٹی پھوٹی عربی میں بات چیت کرنے لگا، بعد...