محمد بلال غلام رسول
ممتاز احمدسدیدی
Mphil
University of Faisalabad
فیصل آباد
2011
Urdu
تعارف تفاسیر , تبیان القرآن , تعارف تفاسیر , تفہیم القرآن , تفسیر , سورة بترتیبِ قرآنی
2023-02-16 17:15:59
2023-02-19 12:20:59
1676733325067
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Mphil | University of Faisalabad, فیصل آباد | |||
BS | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | University of Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | University of Faisalabad, فیصل آباد | |||
BS | University of the Punjab, لاہور | |||
BS | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
Mphil | University of Faisalabad, فیصل آباد | |||
BS | Government College Women University Faisalabad, لاہور | |||
Mphil | University of Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
Mphil | University of Faisalabad, فیصل آباد | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
MA | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
MA | National University of Modern Languages, اسلام آباد | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
MA | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | Lahore Leads University, لاہور | |||
MA | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
MA | TWU, ملتان | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
مرحوم احمد تیمور پاشا
مصر کے ان جدید تعلیم یافتہ اصحاب میں، جنھوں نے گزشتہ ربع صدی میں عربی علم ادب اور اسلامی علوم و فنون کی بیش ازبیش خدمت انجام دی، ایک ہستی احمد تیمور پاشا کی ہے، افسوس ہے کہ انھوں نے گزشتہ ماہ اپریل میں وفات پائی، ان کی مفید تالیفات کے علاوہ وقیع علمی مقالات مصروشام کے ممتاز رسالوں میں شائع ہوتے رہتے تھے اور معارف نے بھی ان کے مضامین ایک سے زیادہ مرتبہ اپنے صفحات میں پیش کئے۔
احمد تیمور پاشا نومبر ۱۸۷۱ء میں مصر کے ایک متمول کرد خاندان میں پیدا ہوئے، یہ خاندان محمد علی پاشا کے عہد میں موصل سے مصر میں آکر آباد ہوا اور اس کے مورث اعلیٰ تیمور بن محمد بن اسمٰعیل بن کرد محمد علی پاشا کے دورِ حکومت مصر میں کے دست راست تھے۔
احمد تیمور پاشا ابھی چند ہی دن کے تھے کہ ان کے والد اسمٰعیل تیمور پاشا کا انتقال ہوگیا اور ان کی تربیت ان کی شاعرہ و ادیبہ بہن عائشہ نے کی، انھوں نے ان کو بچپن ہی میں ایک فرانسیسی مدرسہ ’’مارسیل‘‘ میں داخل کردیا، چند سال کی تعلیم و تربیت کے بعد جب انھیں عربی علم و ادب سے زیادہ شغف ہوا تو فرانسیسی مدرسہ سے نکل کر گھر ہی پر عربی علوم و آداب کی باقاعدہ تحصیل شروع کی اور اس عہد کے مشہور اساتذۂ مصر کے سامنے زانوے ادب تہ کیا، چنانچہ ان کے اساتذہ کی فہرست میں مصر کے ممتاز فاضل شیخ رضوان بن محمد مغلاتی، شیخ حسن طویل، شیخ محمد محمود ترکزی شنقیطی، شیخ محمد عبدہ اور علامہ طاہر جزائری وغیرہ ہیں، انھیں اساتذہ سے علوم عربیہ صرف و نحو، فقہ، منطق، حدیث اور علوم قرآن میں مہارت حاصل کی اور ان علوم کے ماسوا فرانسیسی زبان میں خاص دستگاہ پہلے حاصل ہوچکی...