محمد زاہد ارشد
ممتاز احمدسدیدی
Mphil
University of Faisalabad
فیصل آباد
2012
Urdu
تعارف تفاسیر , تبیان القرآن , تعارف تفاسیر , ثنائی
2023-02-16 17:15:59
2023-02-19 12:20:59
1676733325176
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Mphil | University of Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | University of Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
Mphil | Qurtuba University of Science and Information Technology, ڈیرہ اسماعیل خان | |||
Mphil | University of Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | University of Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | University of Faisalabad, فیصل آباد | |||
MA | TWU, ملتان | |||
Mphil | University of Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | University of Faisalabad, فیصل آباد | |||
MA | Government College University Lahore, لاہور | |||
Mphil | University of Gujrat, گجرات | |||
Mphil | University of Faisalabad, فیصل آباد | |||
Mphil | University of Faisalabad, فیصل آباد | |||
MA | University of Gujrat, گجرات | |||
Mphil | University of Faisalabad, فیصل آباد | |||
BS | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
Mphil | University of Faisalabad, فیصل آباد | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
مولانا شہاب الدین ندوی
قارئین معارف کو اس اطلاع سے نہایت رنج ہوگا کہ ان کے محبوب اور معارف کے خاص مضمون نگار مولانا شہاب الدین ندوی ۱۹؍ اپریل ۲۰۰۲ء کو سفرِ آخرت پر روانہ ہوگئے، اناﷲ وانا الیہ راجعون۔
وہ کئی برس سے موذی امراض میں مبتلا تھے اور چند ماہ سے موت و حیات کی کشمکش میں گرفتار تھے جس کی تفصیل مجھے ۳۱؍ دسمبر ۲۰۰۱ء کو اپنے والا نامہ میں اس طرح لکھی تھی۔
’’طبیعت بہت زیادہ خراب اور نڈھال رہتی ہے، کئی کئی دن بستر پر پڑا رہتا ہوں، علاج و معالجے سے کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے کئی قسم کے امراض میں مبتلا ہوں اور ڈاکٹر ان کی تشخیص نہیں کرپارہے ہیں، ایک بیماری ذرا دبتی ہے تو دوسری ابھر کر سامنے آجاتی ہے ان جان لیوا بیماریوں سے تنگ آچکا ہوں اور مزید طرفہ یہ کہ اب آنکھوں کی بینائی بھی مسلسل ضائع ہوتی جارہی ہے۔ داہنی آنکھ کا آپریشن ہوا مگر بینائی بڑھنے کے بجائے گھٹ رہی ہے، معلوم ہوتا ہے کہ اب میں صرف چند دن کا مہمان ہوں لیکن طبیعت جب کبھی ذرا سنبھلتی ہے تو جم کر لکھنے اور اپنے مسودات صاف کرنے بیٹھ جاتا ہوں‘‘۔
آخر وہی ہوا، خط لکھنے کے ساڑھے تین مہینے بعد وقت موعود آگیا اور مولانا کی ساری دینی، علمی اور تحقیقی سرگرمیاں ہمیشہ کے لیے بند ہوگئیں۔
مولانا کا وطن بنگلور تھا۔ میٹرک کی تعلیم یہیں ہوئی اور دینی تعلیم کی تکمیل دارالعلوم ندوۃالعلماء لکھنؤ میں کی۔ طالب علمی ہی کے زمانے سے ان کی طبیعت کا رجحان قرآنی علوم اور سائنس کی جانب ہوگیا تھا اور وہ ان میں تطبیق اور ہم آہنگی پیدا کرنا چاہتے تھے اسی لیے لکھنؤ کے بعض کالجوں کے سائنس کے اساتذہ سے ان کا ربط و ضبط ہوگیا تھا، دارالعلوم سے فراغت...