سلیم خان
نعیم بادشاہ بخاری
Mphil
University of Agriculture, Peshawar
پشاور
2016
2017
Urdu
تعارف تفاسیر , مواہب الرحمٰن
2023-02-16 17:15:59
2023-02-19 12:20:59
1676733499500
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
Mphil | University of Agriculture, Peshawar, پشاور | |||
Mphil | University of Agriculture, Peshawar, پشاور | |||
Mphil | University of Agriculture, Peshawar, پشاور | |||
Mphil | University of Agriculture, Peshawar, پشاور | |||
Mphil | University of Agriculture, Peshawar, پشاور | |||
Mphil | University of Agriculture, Peshawar, پشاور | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Mphil | Abdul Wali Khan University Mardan, مردان | |||
Mphil | Abdul Wali Khan University Mardan, مردان | |||
PhD | University of Peshawar, پشاور | |||
PhD | Abdul Wali Khan University Mardan, مردان | |||
PhD | Abdul Wali Khan University Mardan, مردان | |||
Mphil | Allama Iqbal Open University, اسلام آباد | |||
Mphil | Abdul Wali Khan University Mardan, مردان | |||
MA | Minhaj University Lahore, لاہور | |||
Mphil | University of Balochistan, کوئٹہ | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | Abdul Wali Khan University Mardan, مردان | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
مولانا احسان اﷲ خاں تاجورؔ نجیب آبادی
مولانا احسان اﷲ خاں تاجورؔ ۱۸۹۳ء میں نجیب آبادضلع بجنور میں پیدا ہوئے، روہیلہ افغانوں کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ابتدائی تعلیم وطن میں ہوئی پھر دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوکر اسلامی علوم وفنون کی تکمیل کی۔ شعروشاعری اورلکھنے کاذوق فطری تھا چنانچہ زمانہ طالب علمی میں بھی دارالعلوم دیوبند کے بلندپایہ علمی اوردینی رسالوں ’’القاسم‘‘ دوراوّل اور ’’الرشید‘‘میں ان کے مقالات نکلتے تھے۔ یہاں سے فارغ ہوکر وہ لاہور پہنچے اورسرعبدالقادر مرحوم ایسے مربی اورمشفق کے فیض صحبت وتوجہ نے ان کوایسا چمکایا کہ وہ جلدہی نہ صرف لاہور بلکہ شمالی ہندوستان کی علمی اورادبی محفلوں کی رونق وزینت بن گئے۔ وہ اردو کے بلند پایہ شاعر اور زبان کے ماہر و نقاد اور نامور ادیب کی حیثیت سے پنجاب کے اساتذۂ فن کی صف میں ایک نمایاں جگہ کے مالک ہوگئے۔ سینکڑوں نوجوان ان کے فیض صحبت وتعلیم سے اردو کے نامور ادیب وشاعر ہوئے۔ وہ زندہ دلان پنجاب کے ادبی اکھاڑہ میں ایک پہلوان کی حیثیت سے رہتے تھے۔
وہ جس طرح دوستوں کے ساتھ انتہائی خلیق وملنسار اورہمدرد تھے اسی طرح مخالفوں کو دنداں شکن جواب دینے میں بھی یدطولیٰ رکھتے تھے۔لاہور میں رہ کر انھوں نے دولت بھی پیداکی اورشہرت وناموری بھی حاصل کی۔ لیکن دیوبند میں چند سالہ قیام نے ان کے دل ودماغ پرایسے گہرے نقوش ثبت کردیے تھے کہ وہ نام کے ساتھ’’فاضل دیوبند‘‘بڑے فخر کے ساتھ لکھتے تھے اوردیوبند کے حضرات اکابر تواکابر معمولی منتسبینِ دارالعلوم پربھی جان چھڑکتے اوران سے والہانہ محبت کرتے تھے۔ اگرچہ تصنیف وتالیف کے ذریعہ کوئی بڑا ذخیرہ انھوں نے یادگار نہیں چھوڑا ہے، تاہم’’انجمن ارباب علم پنجاب‘‘،’’اُردومرکز‘‘ایسے ادارے قائم کرکے اور’’ادبی دنیا‘‘اور’’شاہکار‘‘وغیرہ بلند پایہ رسالے نکال کر اور نوجوانوں میں صحیح اورشگفتہ ادبی وشعری ذوق پیداکرکے انھوں نے اردوزبان وادب کی جواہم خدمات انجام دی...