آمنہ تصور
نور حیات خان
MA
National University of Modern Languages
اسلام آباد
2016
Urdu
تفسیر , سورة بترتیبِ قرآنی
2023-02-16 17:15:59
2023-02-17 20:17:31
1676733545099
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
MA | National University of Modern Languages, Islamabad, Pakistan | |||
MA | National University of Modern Languages, اسلام آباد | |||
MA | National University of Modern Languages, اسلام آباد | |||
MA | National University of Modern Languages, اسلام آباد | |||
MA | National University of Modern Languages, اسلام آباد | |||
BS | University of the Punjab, لاہور | |||
Mphil | University of Poonch, راولاکوٹ | |||
BAH | Government College University Lahore, لاہور | |||
MA | National University of Modern Languages, اسلام آباد | |||
Mphil | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
Mphil | Bahauddin Zakariya University, ملتان | |||
Mphil | TWU, ملتان | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | Government College University Faisalabad, فیصل آباد | |||
BS | University of the Punjab, لاہور | |||
MA | University of the Punjab, لاہور | |||
PhD | University of Sindh, جام شورو | |||
PhD | University of Sindh, جام شورو | |||
BS | University of the Punjab, لاہور | |||
BS | University of the Punjab, لاہور | |||
Title | Author | Supervisor | Degree | Institute |
پروفیسر محمد اسلم مرحوم
یہاں بڑی تاخیر سے یہ افسوس ناک خبر ملی کہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے سابق استاد پروفیسر محمد اسلم ۶؍ اکتوبر کو اچانک حرکتِ قلب بند ہوجانے سے اس دنیا سے رخصت ہوگئے، اناﷲ وانا الیہ راجعون۔
ان کا خاص موضوع تاریخ ہند تھا، عہد سلطنت و دور مغلیہ کے حکمرانوں اور اس عہد کے مشائخ کے متعلق ان کے مقالات اور کتابوں کو علمی و تحقیقی حلقوں میں قدر و ستایش سے دیکھا گیا اور ان کی بڑی پذیرائی بھی ہوئی۔
طالب علمی کے زمانہ سے ہی تاریخ سے ان کو خاص لگاؤ رہا، پنجاب یونیورسٹی سے اسی مضمون میں انہوں نے ایم۔ اے کیا، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے علاوہ انہوں نے برطانیہ میں ڈرہم، مانچسٹر اور کیمبرج یونیورسٹیوں سے بھی اکتساب علمی کیا۔ لاہور میں ڈاکٹریٹ کے لیے انہوں نے شاہجہاں کی مذہبی پالیسی کا عنوان منتخب کیا تھا، لیکن اس کی تکمیل سے پہلے ان کو یورپ جانے کا موقع ملا جس کی وجہ سے غالباً یہ مقالہ مکمل نہ ہوسکا۔
ان کی تحریری صلاحیتوں سے متاثر ہوکر شیخ محمد اکرام نے ان کو تحقیقی مضامین لکھنے پر آمادہ کیا، ۱۹۶۷ء سے یہ سلسلہ شروع ہوا تو برصغیر کے اکثر ممتاز رسائل و مجلات میں ان کی تحریریں شایع ہوتی رہیں، خاص طور پر رسالہ برہان دہلی کے صفحات پر ان کی نگارشات کثرت سے نظر آتی ہیں جن میں مقالات، تنقید و تقریظ اور تعزیتی مضامین وغیرہ شامل ہیں۔ معارف میں بھی ان کے کئی مضامین چھپے، دین الٰہی اور اس کا پس منظر، شاہان مغلیہ کا ذوق موسیقی، مسلمانوں کی جغرافیائی خدمات، فتوحات فیروز شاہی، مسجد قبا سے تاج محل تک، عربوں کے عہد میں سندھ میں علم و ادب، ہیر وارث شاہ کی تاریخی اہمیت، سلاطین دہلی، ہندو تہذیب اور ادب اور داراشکوہ کے...