نازیہ بی بی
نور حیات خان
MA
National University of Modern Languages
اسلام آباد
2011
Urdu
فقہی مسائل , طرزِ بودوباش زیب و زینت
2023-02-16 17:15:59
2023-02-17 20:17:31
1676733547544
حدود آرڈیننس
5 جولائی 1977ء کو ضیا ء الحق نے وطن عزیز میں مارشل لا ء نافذ کیا۔یہ حقیقت ہے کہ اس مارشل لاء کو عوامی حمایت حاصل تھی۔ ضیاء دور میں اسلامائزیشن کےلیےبہت ٹھوس اقدامات کیے گئے۔ اس عہد کا ایک بڑا کارنامہ اسلامیہ جمہوریہ پاکستان میں حدود قوانین کا نفاذ ہے جواسلامی نظریاتی کونسل نے تقریباً ڈیڑھ سال کی جہد مسلسل کے بعد پانچ مسودات کی صورت میں پیش کیا۔ ان مسودات پر عمل درآمد کا مقصدبراہ راست معاشرے کی اخلاقی اقدار کے تحفظ اور جائیداد کی حفاظت سے تھا،یعنی ان کی تنفیذ سے مقاصد شریعت کا تحفظ ممکن تھا۔ ان سفارشات کے ذریعے چوری ، ڈاکہ ، زنا، قذف اور شراب نوشی وغیرہ جرائم سے متعلق مروجہ قوانین کو بدل کر اسلامی قوانین کا نفاذ کر دیا گیا اور ان جرائم کے ارتکاب پر قرآن وسنت کی مقرر کردہ سزائین نافذ کر دی گئیں ۔ 12 ریبع الاول 1399 ھ کو رسول اللہ ﷺ کی ولادت با سعادت کے دن بمطابق مورخہ 10 فروری 1979 ء کو ضیاء الحق نے ایک صدارتی حکم نامہ کے ذریعے مند رجہ ذیل حدود قوانین کا اجراء کیا:
1. جائیداد (منقولہ )سے متعلق جرائم(نفاذ حدود) آرڈیننس 1979ء
Offences against Property (Enforcement of Hudood) Ordinance, 1979, VI of 1979.
اس قانون کو نافذ کرنے کا بنیادی مقصد جائیداد (منقولہ) سے متعلق ہونے والے کچھ خاص جرائم کو اسلامی شریعت کے مطابق ڈھالنا ہے اور اس سے مال کی حفاظت مقصود ہے ۔ یہ قوانین چوری یا ڈکیتی وغیرہ کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس آرڈیننس کے تحت کل چھبیس دفعات ہیں، پہلی دفعہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ قانون 10 فروری 1979ء بمطابق 12 ربیع الاول 1399 ہجری سے پورے پاکستان میں فافذالعمل ہوگا ۔ 422 دوسری دفعہ مختلف تعریفات پر مشتمل ہے جو اس قانون...