Sajjad Ali
Inam ul Haq
Faculty of Social Sciences, Department of Islamic Studies
Mphil
Riphah International University
Private
I-14 Islamabad
Islamabad
Islamabad
Pakistan
2020
2023
2023
2023
Completed
116
Islamic Studies
Urdu
باری تعالی، اسٹیفن مائیر، قرآن، وجود باری تعالی
God, Quran, Stephen Meyer, Atheisms, Theism
2023-11-28 15:50:48
2024-03-24 20:25:49
1701421913514
یہ اردو شاعری کا دوسرا مجموعہ کلام ہے۔ یہ جنوری 1935ء میں منظر عام پر آیا اس میں بانگ درا کے بعد کا اردو کلام شامل ہے۔ پہلی اشاعت میں اس کے دس ہزار نسخے شائع ہوئے تھے۔ اس میں شامل نظموں کی مقبولیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ نظم ”ذوق و شوق “اور” مسجد قرطبہ“ پر بہت سے مقالے اور تحقیقی تصانیف اس کتاب کی انفرادیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اقبال نے دونوں گول میز کانفرنسوں، دوسری اور تیسری سے واپسی کے بعد سفر کے دوران جو اثرات قبول کیے ان کا اظہار مختلف نظموں میں ملتا ہے۔ وہ تمام نظمیں اس مجموعہ کلام کا حصہ ہیں۔ بال جبریل میں غزلیات بھی شامل ہیں۔ پہلے حصہ میں سولہ اور دوسرے حصہ میں اکسٹھ غزلیں شامل ہیں زیادہ حصہ نظموں کا ہے اور کچھ رباعیات بھی شامل ہیں۔ اس مجموعہ کلام کی مقبولیت بہت زیادہ ہے اور پروفیسر عبدالحق کے بہ قول اس کی آٹھ شرہیں بھی لکھی جا چکی ہیں۔
پہلے اس مجموعے کا نام ” نشان منزل“ طے کیا گیا تھا پھر بال جبریل کر دیا گیا۔ رفیع الدین ہاشمی کہتے ہیں۔
”نئے اردو مجموعے کا نام نشان منزل تجویز ہوا اور مسودے کے سرورق پر
بھی یہی نام لکھا گیا مگر بعد میں اقبال نے محسوس کیا کہ بال جبریل زیادہ موزوں
ہےچنانچہ انہوں نے مسودے پر نشانِ منزل کو قلم زد کر کے بال جبریل کر دیا“ (29)
اس تصنیف کی طویل نظموں میں خاص طور پر ایک انقلابی اسالیبی تبدیلی نظر سے گزرتی ہے۔ نظم کا ہر بند ایک علیحدہ مضمون لیے ہوئے ہے اور ہر مضمون غزل صفت ہے۔