Suleman Khalil
ساجد اسد اللہ
Department of Islamic Studies
Mphil
Riphah International University, Faisalabad
Private
Faisalabad
Punjab
Pakistan
2020
2022
2022
2020
Completed
149
ٰIslamic Studies
Urdu
قاموس، لغت، معجم، الفہرس، اصطلاحات
Dictionary
باب اول: قاموس ادیان و مذاہب :تعارفی مباحث 1 فصل اول: قاموس و معجم اور دائرہ المعارف کی اہمیت 2 لغت 3 لغت نویسی کی اہمیت 3 مشہور لغات 4 لغت کی تاریخی اہمیت 5 لغت نویسی کے مراحل 5 اصطلاح 9 اصطلاحات کی تاریخی اہمیت 10 اصطلاحات بنانے کے چند أصول کا جائزہ 11 قاموس ادیان و مذاہب کی اہمیت 11 فصل دوم: منتخب ادیان و مذاہب کا تعارفی جائزہ 14 اسلام 15 افریقی مقامی مذاہب 17 بدھ مت 19 بہائیت 21 تاؤازم 22 جین مت 23 زرتشت ازم 24 سکھ مت 25 شنٹو ازم 29 قادیانیت 29 کنفیوشش 31 مسیحیت 31 ہندومت 34 کیلاشی مذہب 36 یہودیت 37 باب دوم: حرف ”ش“سے شروع ہونے والے مفردات ، کلمات و اصطلاحات 40 شاباشیہ 41 شابع 41 شاخت 42 شاذلی 43 شاذلیہ 44 شاؤل 44 شافعی 45 شب براءت 47 شب قدر 48 شب معراج 49 شبقتنی 50 شبک 51 شبلی 51 الشبیبیہ 52 شپرینگر 53 شد 54 شراۃ 55 شرڈی سائیں بابا 55 شرک 56 شریعت 58 شریعت اللہ ،حاجی 59 الشریعیہ 61 شریمد بھگوت گیتا 61 شطاریہ 62 شطح 64 شطیم 65 شعائراللہ 65 شعبان 66 الشعراء 66 شعوبیۃ 67 شعیا 69 شعیب 69 الشعیبیہ 70 شفاعت 70 شِق 72 شکتی 72 شکتی مت 73 شکتی پوجا 73 شکر 74 شکینہ 75 الشمامیہ 76 شمجر 77 الشمس 77 شمشون 78 شمن 79 شمن ازم 79 شموئیل 80 شموئلؑ 81 شمع 82 شمعون پطرس 83 شمعون مکابی 83 الشمیطیہ 84 شنٹوازم 84 شنکرآچاریہ 85 شو 86 شوؤم 86 شوال 86 شودر 87 الشوریٰ 88 شولمیت 91 شہادت،شہید 91 شہادتین 93 شہادت کی لوحیں 94 شہرستانی 94 الشیبانیہ 95 شیث ؑ 95 شیروین 96 شیطان 97 الشیطانیہ 98 شیعہ 99 شیو 99 شیوارتری 100 شیومت 101 شیولنگ 101 باب سوم : مذاہب عالم میں حرف ”ش“سے شروع ہونے والی اصطلاحات و مصادر کا شماریاتی جائزہ 103 مذاہب عالم میں حرف ”ش“سے شروع ہونے والی اصطلاحات کا شماریاتی جائزہ 104 مصادر کا جائزہ 107 خلاصہ البحث 115 تجاویز و سفارشات 117 فہارس 119 فہرست آیات 120 فہرست احادیث 123 مصادر و مراجع 126
2024-12-21 23:59:26
2025-01-12 15:13:51
1736676831641
قائداعظم محمد علی جیناؔ رحمہ اﷲ
افسوس ہے کہ ۱۱؍ ستمبر ۱۹۴۸ء کی شب کو قائداعظم محمد علی جناح کا کراچی میں بہتر (۷۲) برس کی عمر میں انتقال ہوگیا، پاکستان و ہندوستان اور عالم اسلام نے اس حادثہ پر بڑا صدمہ محسوس کیا، دوسرے دن عصر کے وقت کئی لاکھ کے مجمع میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور تدفین عمل میں آئی، عام مسلمانوں میں ان کو جوہر دلعزیزی حاصل تھی اس کا اثر یہ ہے کہ ہندوستان اور اکثر اسلامی ملکوں، ریاستوں اور شہروں نے ان کا ماتم کیا اور ان کے لئے قرآن خوانی اور مغفرت کی دعا کی گئی۔
مرحوم کے سیاسی کارنامے آفتاب کی طرح روشن ہیں، وہ بڑے قانون داں، بڑے مناظر اور اجتماعیات کے بڑے نبض شناس تھے اور اپنے پیروؤں پر بلا کا اثر رکھتے تھے، ان کی بڑی خصوصیت اپنی بات پر جم کر دوسروں سے اپنی بات منوانے کی قوت تھی، انہوں نے اپنی اس قوت کا مظاہرہ پاکستان کے مطالبہ میں پوری طرح کیا اور بالآخر کامیابی حاصل کی اور ایک ایسی حکومت قائم کی جس کا دعویٰ ہے کہ وہ اس وقت سب سے بڑی اسلامی حکومت ہے اور آبادی کے لحاظ سے دنیا میں اس کا پانچواں درجہ ہے۔
ہندوستان کی سیاست میں مرحوم کا بڑا حصہ ہے اور ۱۹۱۶ء سے لے کر جب لیگ اور کانگریس میں ان کی کوشش سے مشہور پیکٹ ہوا، ۱۹۴۸ء تک سوائے ان چند سالوں کے جب وہ ترک موالات کی تحریک میں کانگریس سے الگ ہوگئے۔ ہمیشہ ایک لیڈر کی حیثیت سے ملک میں ممتازرہے، ان کی نسبت ان کے دوست اور دشمن ایک بات پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ وہ نہ کبھی حکومت وقت سے ڈرے اور نہ جاہ و منصب کی کوئی حرص و طمع ان کو اپنی...